Loading...
Larger font
Smaller font
Copy
Print
Contents
  • Results
  • Related
  • Featured
No results found for: "undefined".
  • Weighted Relevancy
  • Content Sequence
  • Relevancy
  • Earliest First
  • Latest First
    Larger font
    Smaller font
    Copy
    Print
    Contents

    ۱۳ باب
    خُدا وند میں خُوشی و خرّمی

    فرزندانِ خُدا کو مسیحؔ کے ایلچی ہونے کے لئے بُلایا گیا ہے۔ تا کہ وہ خُدا وند کی خوبیاں اور نزاحمّ کا اِظہار کریں۔ مسیحؔ نے جِس طرح خُدا کا اصلی جلال اور خصلتیں ظاہر کی ہیں۔ اُسی طرح ہمیں بھی مسیحؔ کی سچیّ اور تراحم آمیز محبّت کو دُنیا پر جو اُسے نہیں جانتی ظاہر کرنا ہے۔ مسیحؔ نے فرمایا۔ جِس طرح تُو نے مُجھے دنیا میں بھیجا۔ اُسی طرح مَیں نے بھی اُن کو دُنیا میں بھیجا۔۔۔۔۔مَیں اُن میں ہُوں اور تُو مُجھ میں اور دنیا جانے کہ تُو ہی نے مجھے بھیجا۔ یُوحنّا١۷:١۸۔۲۳۔پولوس رسُول مسیحؔ کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔ کہ تُم مسیحؔ کے وہ خط ہو۔۔۔۔جسے سب آدمی جانتے اور پڑھتے ہیں۔۔۲کرنتھیوں۳:۳،۲۔ مسیحؔ اپنے ہر ایک فرزند کے ذریعہ تمام عالم کو خط بھیجتا ہے۔ اگر آپ مسیحؔ کے پَیرو ہیں۔ تووہ آپ کے ذریعہ گھرانوں میں، گاوٴں میں، گلی میں جہاں جہاں آپ رہتے ہیں اپنا پیام پہنچاتا ہے۔ مسیحؔ آپ میں سکونت کر کے اُن لوگوں سے ہمکلام ہونا چاہتا ہے۔ جو اُن سے نا واقف ہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ وہ کلام مقدّس کی تلاوت نہ کرتے ہُوں یا اِس آواز سے بے بہرو رہتے ہوں۔ جو کتابِ مقدّس کے صفحات کے ذریعہ اُن سے بات چیت کرتی ہے۔ یا شاید یہ لوگ خُدا کی دستکاریوں سے اُس کی محبّت کو نہ دیکھتے ہیں۔ پس اگر آپ مسیحؔ کے سچےّ پیروہوں۔ تو آپ کو دیکھ کر اور آپ کی عادتوں اور خصلتوں کو چانچ کر لوگ مسیحؔ کی خوبیوں سے کُچھ نہ کُچھ واقف ہو جائیں گے۔ اور اِس طرح وہ مسیحؔ کی محبّت اور اُس کی خدمت کے لئے جیتے جائینگے۔ TK 149.1

    مسیحی لوگ اُس راستہ میں جو بہشت کو جاتا ہے۔ روشنی بردار مُقرّر کئے گئے ہیں۔ اور جو روشنی مسیحؔ سے ظاہر ہو کر اُن پر پڑتی ہے۔ انہیں اِس روشنی کو دُنیا پر منعکس کرنا ہے۔ اُنکے چال چلن اور اُن کی زندگی اَیس اچھی ہونی چاہئے۔ کہ اور لوگ اُن کو دیکھ کر مسیحؔ اور اُن کی خدمت گذاری کے پوُرے پُورے مفہوُم سے آگاہ ہو جائیں۔ TK 150.1

    اگر ہم مسیح کو ظاہر کرنا چاہیں۔ تو لازم ہے کہ ہم مسیحؔ کی خدمت کو اُ س عُمدگی اور دلکش طریقہ میں ظاہر کریں۔ جَیسے وہ فی الحقیقت ہے۔ جو مسیحی لوگ اپنی روحوں پر رنج و الم لا د لیتے ہیں۔ اور بُڑبڑاتے اور شاکی ہوتے ہیں۔ وہ مسیحی زندگی اور خُدا کا ایک غلط اور بُرا نموُنہ دنیا پر ظاہر کرتے ہیں۔ وہ دُنیا پر یہ آشکار کرتے ہیں کہ خُدا اپنے فرزندوں کی شادمانی سے مسُرور نہیں ہے۔ اَیسا کرنے سے وہ لوگ گویا ہماررے آسمانی باپ کے خلاف جھُوٹی گواہی دیتے ہیں۔ TK 150.2

    شیطان فرزندانِ خُدا کو شک اور مایوسی کی حالت میں مُبتلا کر کے نہایت شادماں ہوتا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ ہمارا بھروسہ خُدا پر سے جاتا جا رہا ہے۔ اور ہم اُ س کی رضامندی اور نجات کی قُوّت پر اِیمان نہیں رکھتے تو وہ اور بھی خُوش ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم محسوس کر یں کہ خُدا اپنی پروردگارٰ سے ہمیں نقصان پہنچائے گا۔ شیطان کا یہ کام ہے کہ وہ ظاہر کرے کہ خُدا محبت اور ترس کرنے والا نہیں ہے۔ وہ خُدا کی نسبت سچائیوں کو غلط طَور پر سے پیش کرتا ہے۔ وہ خُدا کی بابت ہمارے دماغوں کو غلط خیالات سے پُر کر دیتا ہے۔ اور ہم اپنے آسمانی باپ کی بابت حق بات پر خیال رکھنے کی بجائے اکثر شَیطان کے جُھوٹے الزاموں پر زیادہ خیال کرتے ہیں۔ اور خُدا اپر بھروسہ نہ رکھنے اور شاکی ہونے سے ہم اُس کی بے عزتی کرتے ہیں۔شَیطان ہمیشہ دیندارانہ زندگی کو غمزدہ بنانے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اَیسی زندگی بڑی کھٹن اور دشوار ہے۔ اور اگر مسیحی شخص بھی اپنی مذہبی زندگی سے اِس طرح کا منظر عیاں کرتا ہے۔ تو گویا وہ اپنی کم اعتقادی سے شَیطان کے جُھوٹ اور فریب کی تائید کرتا ہے۔ TK 151.1

    بہہت سے لوگ اَیسے ہیں جو اپنی زندگی میں اپنی غلطی، ناکامیابیاں اور نا اُمیدی کو ترک نہیں کرتے بلکہ اُن ہی سے لگے لپٹے رہتے ہیں۔ اَیسے ہی لوگوں کے دِل رنج و الم اور کم ہمتی سے بھر ے رہتے ہیں۔ جب میرا قیام یورپ میں تھا۔ تو مُجھے ایک بہن نے جو اَیسی حالت میں نہایت رنجیدہ تھی۔ لکھاّ کہ مہربانی کر کے مُجھے ہمت کو بڑھانے والی نصیحت تحریر فرمائیے۔ جِس دن مَیں نے اُس کا خط پڑھا اُسی رات کو مَیں نے اپنے آپ کو ایک خوشنما باغ میں پایا۔ اور مَیں نے دیکھا کہ باغ کا مالک مُجھے باغ کی سَیر کرارہا ہے۔ مَیں پُھول توڑ توڑ کر اکھٹا کر رہی ہُوں۔ اور اُن کی خُوشبُو سے میرا دماغ مُعطّر ہُوا جاتا ہے۔ اتنے میں اُسی بہن نے ﴿جس کا خط مَیں نے دِن کو پڑھا تھا اور وہ میرے ساتھ ساتھ اسی باغ میں گھوُم رہی تھی﴾ مجُھے آواز دی مَیں نے جو پلٹ کر دیکھا۔ تو کیا دیکھتی ہوں ۔ کہ کچھُ کانٹے دار جھاڑیاں نہایت ہی بد نام سی اُس بہن کی راہ میں پڑی ہیں۔ اور وہ رنجیدہ ہو کر رو رہی ہے۔ وہ رہبر کے پیچھے پیچھے راہ میں نہیں چلتی تھی۔ بلکہ اُس سے منحرف ہو کر کانٹے دار جھاڑیوں میں خراماں چلتی تھی۔ اُس نے بلند آواز سے کہا۔ کیسے خُوشنما باغ کو اِن کانٹوں نے غارت کر رکھاّ ہے۔ تب رہبر نے جواب دِیاتم کانٹوں سے الگ رہو۔ کانٹوں میں گھسُنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ تو تُم کو زخمی کر دیں گے۔ تم گلاب چنبیلی اور سوسن توڑ کر جمع کرو۔ TK 151.2

    کیا آ پ کی زندگی میں کبھی اچھےّ موقعوں کے تجربے حاصل نہیں ہُوئے؟ کیا آپ کو کبھی اَیسا اِتفاق نہیں ہوُا۔ کہ جب خُدا کے رُوح کے جواب میں آپ کا دِل خُوشی کے مارے اُچھلا ہو؟ جب آپ اپنی عُمرِ گذشتہ کی کتاب کر نظر ثانی کرتے ہیں۔ تو کیا آپ کو اُس میں کُچھ اور عُمدہ صفحات نظر نہیں آتے ہیں؟ کیا خُدا کے وعدے خُوشنما لہلہاتے اور مہلکتے ہوئے پُھولوں کی طرح آپکی زندگی کے راستہ کے دونوں طرف نہیں کِھلےہیں؟ کیا آپ اپنے دِل کو اِن پھولوں کی خُوشنمائی اور خُوشبُو سے مُعطّر اور مسرُور نہ ہونے دینگے؟TK 152.1

    خار اور کانٹے دار جھاڑیاں تو آپ کو زخمی کر دیں گی۔ اور رنج ہی پہنچایں گی۔ اور اگر آپ صرف خار دار کانٹے ہی جمع کر کے اَور لوگوں کو بھی دیتے ہیں۔ تو کیا آپہی نہ صرف خُدا کی تعمتوں سے محروم رہتے ہیں ۔ بلکہ اور لوگوں کو بھی جو آپ کے اِردگِرد بستے ہیں زندگی کی راہ پر چلنے سے محرُوم نہیں کرتے ہیں؟TK 153.1

    اپنی گذشتہ عُمر کی نامامیوں ، برائیوں اور خرابیوں کو جمع کر کے اُن پر با ر بار نظر ڈالنا۔ اُن کی بابت کلام کرنا۔ اُن پر ماتم کرنا اور یہاں تک اُن کو بیان کرنا کہ ہماری زندگی غم اور نااُمیدی سے لبریز ہو جائے۔ کوئی دانشمندی کی بات نہیں ہے۔ کیونکہ مایُوس اور نا اُمیدی رُوح تاریکی سے بھرپُور ہو کر خُدا کے نُور سے جُدا ہو جاتی ہے۔ اور دُوسروں کی راھ پر بھی تاریکی چھانے کا موٴجب ہوتی ہے۔ TK 153.2

    خُدا نے جو اچھی تصاویر ہمیں عطا فرمائی ہیں۔ اُن کے لئے ہم کو شکر گزار ہونا چاہیے۔ آئیے اُس کی محبّت آمیز برکات کو جمع کر کے اُن پر متواتر غور کر تے رہیں۔ اور کبھی اُن کو نظر انداز نہ کریں۔ ابنِ خُدا نے اپنے باپ کے تخت سے کنارہ کشی اِختیار کر کے اُلو ہیت کا جامہ پہنا۔ تا کہ وہ اِنسان کو شیطان کے پنجہ سے بچا لے۔ اُس نے ہمارے لئے فتحمندی حاصل کی اور آسمان کے دروازے کھول دئیے اُس نے اِنسانوں کے سامنے وہ مقامات ظاہر کر دئیے۔ جہاں خُدا کا جلالی منظر بے پردہ صفائی سے نظر آتا ہے۔ اُس نے نسلِ اِنسانی کو تباہی کی اِس دلدل سے جہاں گُناہ نے اِس کو دھکیل دِیا تھا۔ ہاتھ پکڑ کر باہر نکالا۔ اور خُدائے لا محدُود کے حضور میں لا کر پیش کر دِیا۔ اور مسیحؔ پر ایمان کے ذریعہ الہیٰ آزمائش کو برداشت کر کے اور مسیحؔ کی راستبازی اور نیکو کاری کا جامہ پہن کر ہم اُس کے تخت تک سرفراز کٕئے جاتے ہیں۔ خُدا یہ چاہتا ہے کہ ہم اِن تصویروں پر نظرِغور کریں۔ TK 153.3

    جب ہم خُدا کی مُحبّت پر شک کرتے ہیں اور اُس کے عہدوپیمان کو ناقابلِ اِعتبار سمجھتے ہیں۔ تو ہم اُس کی بے عزتی کرتے اور اُس کے پاک رُوح کو رنجیدہ کرتے ہیں۔ اگر بچے اپنی ماں کی برابرشکایت کرتے رہیں۔ اور جب اُس کی ماں نے اپنی ساری عُمر اُن بچوں کی بھلائی اور آرام دہی اور فائدہ پہنچانے میں صرف کی ہو۔ تو اُس ماں کا دِل کیا کہے گا؟ فرض کریں کہ وہ بچےّ اُس کی مُحبّت پر شک رکھیں۔ تواُس کا دِل پاش پاش ہو جا ئیگا۔ اگر والدین کے ساتھ بچےّ ایسا سلوک کریں۔ تو اُ ن کے دل کی کیا حالت ہوگی؟ اُسی طرح ہمارا آسمانی باپ بھی اگر ہم اُس کی سچی محبّت پر شک کریں۔ جس نے اُسے اپنے اکلوتے بیٹے کو دینے پر مائِل کیا۔ تا کہ ہم زندگی پائیں کیا خیال کریگا!رسُول لکھتا ہے کہ جِس نے اپنے بیٹے ہی کو دریغ نہ کِیا۔ بلکہ ہم سب کی خاطر اُسے حوالہ کر دیا۔ وہ اُس کے ساتھ اور سب چَیزیں بھی ہمیں کِس طرح نہ بخشیگا؟ رومیوں۸:۳۲ حالانکہ بہت سے لوگ ہیں جو اپنے منہ سے تو نہیں مگر اپنے افعال سے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خُدا کا میرے لئے یہ مطلب نہیں ہے۔ شاید وہ دوسروں سے تو محبّت رکھتا ہے۔ مگر مُجھ سے محبّت نہیں رکھتا۔ TK 154.1

    یہ سب باتیں آپ کی روح کے لئے ہی نقصان دہ ہیں۔ کیونکہ ہر ایک اَیسا لفظ جو آپ کے مُنہ سے نِکلتا ہے۔ اگر وہ مشکوک ہو۔ تو شَیطان کو آزمائش کے لئے بُلاتا ہے۔ یہ شک کا لفظ آپ کے شک کو روز بروز بڑھاتا ہے۔ اور خدمتگذار فرشتگان کو رنجیدہ کرتا ہے۔ جب شیطان آپ کو آزمائے۔ تو اپنے مُنہ سے کوئی لفظ شک و شُبہ کا ہرگز نا نِکالیں۔ کیونکہ اگر آپ اُس کی صلاح اور مشورے پر کان لگائینگے تو وہ آپ کے دل و دماغ کو بد اعتقادی اور بغاوت انگیز خیالات سے بھر دے گا۔ اور اگر آپ اپنے خیالات کا اِظہار کریں گے تو ہر ایک شک نہ صرف آپ ہی پر بُرا اثر ڈالے گا۔ بلکہ بُرے بیج کی طرح اُگ کر اوروں کی زندگیوں کو بھی خراب کر یگا۔ اور جب الفاظ آپ کے منہ سے نِکل کئے تو اُن کے برُے اثر کو دُنیا پر سے ہٹانا غَیر ممکن ہوگا۔ ہاں یہ مُمکن ہے کہ آپ خُود کو شیطان کی آزمائش اور پھندے سے نِکل آئیں۔ مگر دُوسرے جو آپ کے اثر بد کا شکار ہو چکے ہیں۔ وہ اُس بد اعتقادی اور بے اِیمانی سے جِس کا بیج آپ نے اُن کے د ِل میں بویا ہے۔ کیونکر بچ سکتے ہیں؟ اب دیکھا آپ نے۔ کہ اِس کی کَیسی ضُرورت ہے۔ کہ ہم صِرف وُہی بات کریں جو رُوحانی مضبوطی اور زندگی کے لئے ہو! فرشتے اِس بات کو سُنتے ہیں۔ کہ آپ اپنے آسمانی باپ کی بابت دُنیا میں کیا کیا کہتے ہیں۔ اِس لئے آپ کی تقریر ہر لحظہ اُسی کی بابت ہونی چاہئے۔ جو آپ کے لئے آسمانی باپ کے رُو برُو ہمیشہ آپ کی سفارش کرتا ہے۔ جب کِسی دوست سے ہاتھ ملائیں تو اپنے دل اور اپنی زبان سے خُدا کی حمدوثناء کریں۔ کیونکہ اَیسا کرنےسے اُس کا دِل بھی خُدا وند کی طرف مائِل ہوگا۔ TK 155.1

    سب کو دقتیں پیش آتی ہیں۔ مصیبتیں جھیلنا پڑتی ہیں۔ آزمائشوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اِس لئے اپنی تکلیفوں کا ذکربنی نُوع اِنسان سے نہ کریں۔ بلکہ اپنے خُدائے غَیرفانی کے سامنے دُعاوٴں میں پیش کیا کریں۔ ہمیشہ اِس بات کا خیال رکھیںِ بلکہ اپنا دستوُرالعمل بنا لیں۔ کہ آپ کے مُنہ سے کبھی کوئی لفظ بد اعتقادی یا شک کا نہ نِکلے پائے۔ اپنے ہمّت افزاء اور پُر اُمید الفاظ سے آپ دوسروں کی زندگی کو مُنوّر اور اُنکی کوششوں کو مضبُوط کر سکتے ہیں۔ TK 156.1

    بہت سے اَیسے بہادر لوگ ہیں۔ جن کو آزمائشوں نے دبا ڈالا ہے۔ اور قریب ہے کہ وہ نفس اور شیطان سے لڑتے ہُوئے بالکل مغلُوب ہو جائیں۔ اَیسوں کو ہرگز اَیسی جنگ میں بیدل نہ کریں۔ بلکہ اُنہیں پُر ہمّت اور تقوّیت بخش کلام سے مدد دیں۔ تا کہ وہ اس راہ میں کامیاب ہوں۔ یُوں مسیحؔ کی روشنی آپ سے چمکے گیہم میں سے ۔۔۔۔کوئی اپنے واسطے نہیں جیتا ہے﴿رومیوں١۴:۷﴾ ہمارے نا دانستہ اثر سے دوسروں کو تقوّیت اور ہمّت حاصل ہوتی ہے یا وہ ہمت ہار کر مسیحؔور سچائی سے دُور ہ جائیں گےTK 156.2

    دُنیا میں بہت سے لوگ اَیسے ہوں جو مسیحؔ کی زندگی اور اُس کی خصائل کی با بت غلط خیال رکھتے ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ وہ خُوشی اور جوش سے خالی تھا۔ وہ سخت بد مزاج اور غمناک تھا۔ اکثر حالات میں تمام مذہبی تجربات اَیسے ہی غمناک مناظر کے رنگ میں رنگ دئیے جاتے ہیں۔ TK 157.1

    اکثر یہ بھی کہا جاتا ہے۔ کہ مسیحؔ رویا تو ضُرور ہے۔ لیکن کہیں اُسکے ہنسنے کا کوئی ذکر نہیں۔ اِس میں کلام نہیں کہ ہمارا منجی فی الحقیقت مردِ غمناک اور رنج و تکلِیف کا آشنا تھا۔ اور اُس نے نسلِ اِنسانی کے غم و الم کے لئے اپنے دِل کے دروازے کھول رکھے تھے۔ گو اُس کی زندگی سراسر خُود اِنکاری اور خاکساری میں بسر ہوتی تھی۔ اور رنج و غم کا سایہ اُس پر رہتا تھا مگر ان تمام مصائب سے بھی اُس کی رُوح مغلُوب نہ ہوئی۔ اُس کے چہرے پر کبھی رنج و تکلِیف کے آثار تمایاں نہ ہوتے تھے۔ بلکہ اِطمینان اور سنجیدگی اُ س کے چہرے سے ظاہر ہوتی تھی۔ اُس کا دِل چشمہٴ حیات تھا۔ اور جہاں وہ جاتا تھا۔ اپنے ہمراہ آرام۔صُلح، شادمانی اور اطمینان لے جاتا تھا۔ TK 157.2

    ہمارا مُنجی بہت سنجیدہ اور سرگرم تھا۔ لیکن وہ کبھی غمگین اور رنجیدہ نہ تھا جو لوگ اُس کی زندگی کی نقل کرتے ہیں۔ اُن کی زندگی بھی سنجیدگی اور سرگرمی سے معمور ہوگی۔ وہ شخصی ذمہ داری کا پُورا پُوار احساس رکھیں گے۔ اُنکا سبک پن جاتا رہیگا۔ بیجا فخر ناجائز خُوشی اور بیہُودہ مذاق اُن سے الک ہو جاتا ہے۔ مسیحی مذہب دریا کی طرح صُلح اور اطمینان بخشتا ہے۔ وہ خُوشی کے چراغ اور شادمانی کی شمع کو نہیں بجھاتا۔ وہ خُوشنما اور مُسکراتے ہُوئے چہرے کو نا خُوش و اُداس نہیں کرتا۔ مسیحؔ خدمت کرانے نہیں بلکہ خدمت کرنے آیا تھا۔ اور جب مسیحؔ کی محبّت ہم میں سکونت کرتی ہے تو ہم اُس کے نقشِ قدم پر چلنے لگتے ہیں۔ TK 157.3

    اگر ہم ہر وقت اپنے دِل میں دوسروں سے غیر مُنصفانہ اور بے رحمی کے کاموں کے سلُوک رکھتے رہیں۔ تو یہ ہمارے لئےناممکن ہوگا۔ کہ ہم اُن لوگوں سے اِس طرح مُحبّت کریں۔ جِس طرح مسیحؔ نے ہم سے مُحبّت کی۔ لیکن اگر ہمارے خیالات اِس عجیب رحم اور ناد محبّت پر لگے رہیں۔ جو مسیحؔ ہمارے ساتھ رکھتا ہے۔ تو ہم بھی دُوسروں سے وَیسا ہی برتاوٴ اور محبّت رکھیں گے۔ اور اُن کی کمزوریوں اور قصوروں سے درگُزر کریں گے۔ فروتنی اور صبر ہم میں پَیدا ہونا چاہئیے اور دوسروں کی خطاوٴں سے صبر و تحمّل کے ساتھ درگذا کرنا چاہئیے۔ اگر ہم اَیسا کریں گے۔ تو اِس سے خُودغرضی اور تمام کم ظرفی دُور ہوگی اور ہم نہایت کُشادہ دل اور فیاّض شخص بن جائیں گے۔ TK 158.1

    زبور نویس لکھتا ہے کہ خُداوند پر توکّل رکھ اور نیکی کر مُلک میں آباد رہ اور اُس کی وفاداری سے پرورش پا۔ زبور۳۷:۳۔ خُداوند پر توکلّ رکھ ہر روز کے غم و الم، رنج و فکر جُدا جُدا ہوتے ہیں۔ جب ہم اپنے کسی دوست سے ملتے ہیں۔ تو کَیسی آمادگی سے اپنی تکالیفاور مُصیبتیں سُناتے ہیں۔ بہت سی بے فائدہ فکریں لاحق ہو جاتی ہیں۔ اور بہت سے خوف و ہراس کے پہاڑ سر پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہم اپنی فکروں کے بوجھ کا اِس قدر بیان کرتے ہیں۔ کہ جو سُنتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے ۔ کہ اُس شخص کا کوئی رحیم اور ہمدرد منجی موجُود نہیں ہے۔ جو اُس کی درخواستوں کو سُنے اور ہر حاجت کے وقت اُس کا مُستعد مددگار ہو۔TK 158.2

    بعض لوگ ہمیشہ لرزاں و ترسان رہتے ہیں۔ اور خُود دُکھ و درد کو گویا مُول لیتے ہیں۔ حالانکہ خُدا کی محبّت کی علامتیں اُن کے چاروں طرف روزانہ نظر آتی ہیں۔ اور وہ روزمرّہ اُس کے فیض عام سے فائدہ اُٹھاتے رہتے ہیں۔ لیکن پِھر بھی وہ اِن مَوجودہ برکات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اُن کے خیالات ہمیشہ ناساز امور کی طرف رجُوع کرتے ہیں۔ اور وہ ڈرتے ہیں۔ کہ اَیسے حالات ہم پر وارد ہونے کو ہیں۔ اور بعض ناساز امُور معرضِ وجود میں آنے کو ہیں۔ خواہ ادنی ٰ ہی کیوں نہ ہوں اُن کی آنکھوں پر پردے ڈال دیتے ہیں۔ اور وہ اِن نعمتوں کے لئے خُدا کا شکریہ نہیں ادا کرتے ۔ اَور جو مصیبتیں اُن پر آتی ہیں۔ اُن کو خُدا کے پاسلے جانے کی بجائے جو اُن کی واحد مدد کا مرکز ہے۔ اُن خو خُدا سے دُور کر دیتی ہَیں۔ کیونکہ اُنہوں نے بے چینی اور اُداسی کو جگہ دی ہے۔ TK 159.1

    کیا اَیسی بے اعتقادی اچھیّ بات ہے؟ کیوں ہم اَیسے نا شکرگزار اور بے اِیمان بنیں؟ مسیحؔ تو ہمارا سچاّ دوست ہے۔ کُل آسمان ہماری بہتری کے لئے فکر مند اور کوشاں ہے۔ ہمیں روزمرّہ کی مصیبتوں اور فکروں سے اپنے دلوں کو فکر مند اور غمزدہ نہیں کرنا چاہئیے۔ اور اگر ہم کرینگے۔ تو ہمارے دِل ہمیشہ پریشانی اور اضطراب کے مسکن بنے رہیں گے۔ ہمیں اَیسے معاملہ میں نہ پڑنا چاہئیے۔ جو محض ہماری دِقّت اور پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔ اور اِمتحان اور آزمائش میں ہمیں کِسی طرح کی امداد نہیں دیتا ہے۔ TK 159.2

    ممکن ہے کہ آپ اپنے کاروبار میں پریشان ہوں۔ اور آپ کی ترقیوّں پر نا آمیدی کی کالی کالی گھٹائیں چھا جائیں۔ اور نقصان کا اندیشہ ہو۔ جِس سے آپ کا دِل ٹُوٹ جائے لیکن نا اُمید ہو کرگھبرانا نہیں چاہئیے۔ بلکہ اپنی فکروں کو خُدا پر ڈال دیں۔اور خُوش و خرم اور با اِطمینان رہیں۔ خُدا سے دانش و حکمت کے لئے دُعا کریں۔ تا کہ آپ اپنے تمام کاموں کو عقلمندی سے انجام دے سکیں۔ اور یوں نقصان اور مصیبت سے بچ سکیں۔ اور اپنی کامیابی کے لِئے حتّی المقدُور کوشش کریں۔ اور جو کچھ اُس کا نتیجہ ہو۔ خُوشی سے اُ س کو تسلیم کریں۔ TK 160.1

    خُدا یہ نہیں چاہتا کہ اُس کے لوگ فکروں کے بوجھ سے بالکل دب جائیں۔ خُداوند ہمیں دھوکہ میں رکھنا نہیں چاہتا ہے۔ اُس نے ہم سے یہ نہیں کہا ہے کہ خوفزدہ نہ ہو کہ راہ میں کِسی طرح کا خَوف و خطرہ نہیں ہے۔ وہ بخوبی جانتا ہے۔ کہ ہمارےراستہ میں طرح طرح کی آزمائشیں اور مصائب درپیش ہیں۔ اِس لئے اُس نے اُن کا بیان بلکل ہی صاف صاف کردِیا ہے۔ وہ اِس کو مناسب نہیں سمجھتا ہے۔ کہ اس بُری اور گُناہ آلُودہ دنیا سے اپنے لوگوں کو نکال لے۔ بلکہ اُس نے اُن کی بھلائی کے لئے ایک نہایت مُستحکم پناہ گاہ بنا دی ہے۔ اُس کی دُعا اپنے شاگردوں کے لئے یہ تھی کہ میں یہ درخواست نہیں کرتا کہ تُو اُنہیں دُنیا سے اُٹھا لے بلکہ یہ کہ اُس شریز سے اُن کی حفاظت کر۔ یُوحنّا١۷:١۵۔ اِس کے علاوہ یہ بھی فرمایا ہے کہ تم دنیا میں مصیبت اُٹھاتے ہو۔ لیکن خاطر جمع رکھو۔ مَیں دُنیا پر غالب آیا ہوںیُوحنّا١٦:۳۳TK 160.2

    خُداوند مسیحؔ نے اپنے مشہور پہاڑی وعظ میں اپنے شاگردوں کو خُدا پر بھروسہ رکھنے کی ضرورت کے اچھّے سبق سکھائے۔ اِن اسباق کا مقصد ہر زمانہ میں خُدا کے بندوں کو حَوصلہ و ہمّت بخشناتھا۔ اور یہ تعلیم اور ہدایت سے ہم تک معمُور پہنچے ہیں۔ مسیحؔ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا۔ کہ ذرا ان خُوش الحان پرندوں کو تو دیکھو یہ کَیسی بے فکری اور خُوشحالی اور اطمینان سے راگ گاتے اور چہچہاتے ہیں۔دیکھو یہ نہ بوتے ہیں۔ نہ کاٹتے ہیں نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں۔ تَو بھی آسمانی باپ اُن کی تمام حاجتیں پوری کرتا ہے۔ خُداوندمسیحؔ پُوچھتے ہیں۔ کیا تم اِن پرندوں سے زیادہ قدر نہیں رکھتے متی٦:۲٦۔ اِنسان و حیوان کا پیدا کنندہ یعنی پروردگار اپنی مُٹھی کھولتا ہے اور تمام مخلوقات کی حاجتوں کو رفع کرتا ہے۔ آسمان کے پرندے اُس سے نظر انداز نہیں ہوتے۔ وہ اپنے ہاتھ سے چڑیوں کی چونچیں کھول کھول کر تودانہ نہیں کھلاتا۔ مگر اُن کی تمام ضروریات کے لِئے سامان بہم پہنچا دیتا ہے۔ جو غلّہ اُس نے اُن کے لئے بکھیرا ہے۔ اُسکو چُگنا اُن کا کام ہے۔ اپنے گھونسلوں کے بنانے کے لئے سامان جمع کرنا اور اپنے بچّوں کی پرورش کرنا اُن کا کام ہے۔ وہ راگ گاتی اور چہچہاتی اپنے کام میں مشغول رہتی ہیں۔ آسمانی باپ اُن کو کھلاتا ہے۔ کیاتُم اُن سے زیادہ قابلِ قدر نہیں ہو؟ کیا آپ ہوشمند اور خُدا کے رُوحانی پرستار اِن پرندوں سے زائد قابلِ قدر نہیں ہیں؟ کیا وہ خالقِ جس نے ہماری ہستی کو بنایا اور ہماری زندگی کو مُحفوظ رکھتا ہے۔ اور جِس نے اپنی ہی صُورت کے مطابِق ہمیں خلق کیا ہے۔ اگر ہم اس پر توکّل کریں۔ تو ہماری حاجت روائی نہ کر یگا؟ TK 161.1

    مسیحؔ نے اپنے شاگردوں کو مَیدان کے پھُولونکو دکھا کر جَو میدان میں نہایت خُوشنما اور نفیس لباس سے آراستہ تھے۔ اور اپنی سادگی و دلفریب کا جو خُدا نے اُنہیں دِیا تھا۔ اَظہار کرتے تھے اور اُسکی محبّت کا دم بھرتے تھے۔ فرمایا۔ کہ جنگلی سوسن کے درختوں کو غَور سے دیکھو۔ کہ وہ کِس طرح بڑھتے ہیں اُن پھولوں کی خُوبصورتی و سادگی حضرت سلیمان کی شان و شوکت سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھی۔ اِنسان کے اِیجاد کر دہ ایک سے ایک بڑھ کر لباس بھی خُدا کے پَیدا کردہ پُھولوں کی معمولی سادگی اور خُوبصُورتی کے مقابلہ میں کُچھ وقعت نہیں رکھتے۔ مسیحؔ نے فرمایا۔ پس جب خُدا مَیدان کی گھاس کو جو آج ہے ۔ اور کل تنور میں جُھونکی جائے گی۔ اَیسی پوشاک پہناتا ہے ۔ تو اے کم اعتقادو! تم کو کیوں نہ پہنائیگا؟ متی٦:۳۰،۲۸۔ جب حقیقی مُصّور یعنی خُدا ا یک معمولی پُھول کو جو آج ہے اور کل مُرجھا جائے گا۔ اَیسی رنگا رنگ پوشاک سے آراستہ کرتا ہے توہ وہ اُن لوگوں کی کِتنی زیادہ فکر اور نگرانی کریگا۔ جو خُود اُسی صُورت پر پیدا کئے گئے ہیں؟ مسیحؔ کی یہ تعلِیم فکر مندوں اور شک و شُبہ کرنے والوں اور بد اعتقاد لوگوں کے لئے بطَور ملامت کے ہے۔ TK 162.1

    خُدا وند چاہتا ہے کہ اُس کے تمام بیٹے اور بیٹیاں خوش و خرّم اور فرمانبردار رہیں۔ مسیحؔ فرماتا ہے۔ کہ مَیں تمہیں اِطمینان دئے جاتا ہوں۔ آپنا اِطمینان تمہیں دیتا ہوں ۔ جِس طرح دُنیا دیتی ہے۔ مَیں تمہیں اُس طرح نہیں دیتا۔ تمہارا دل نہ گھبرائے۔ اور نہ ڈرےیوُحنّا١۴:۲۷۔مَیں نے یہ باتیں اِس لٕئے تُم سے کہی ہیں۔ کہ میر ی خُوشی تُم میں ہو اور تمہاری خُوشی پُوری ہو جائے یُوحنّا١۵:١١TK 163.1

    وہ شادمانی اور مسّرت جو فرائض کی راہ سے الک ہو کر خُود غرضی سے تلاش کی جاتی ہے۔ وہ مُضر۔ ناپائیدار ااور بیکار ہوتی ہے۔ وہ گزر جاتی ہے۔ مگر رُوح غم و الم میں پھنس جاتی ہے۔ لیکن خُدا کی خدمت سے خُوشی اور اطمینان پَیدا ہوتا ہے۔ شک کے راستہ میں مسِیحی کوچلنے کے لئے نہ چھوڑا جاتا اور نہ اُسے بیکار افسوس اور مایوسی میں دھکیل دِیا جاتا ہے اگر ہمیں اِس دنیا کی شادمانیاں ہاتھ نہ آئیں۔ تو بھی ہم اُس آنے والی مُسّرت اور حیات کا اِنتظار کر کے خُوشی حاصل کر سکتے ہیں۔ TK 163.2

    لیکن اِس دنیا میں بھی مسیحی شخص کو خُداوند کی قربت کا لُطف اور خُوشی حاصل ہو سکتی ہے۔ اُس کی مُحبت کی نورانی کرنیں اُن کر پڑ سکتی ہیں۔ جو اُ س کی حضُور ی سے متواتر تسلّی و اِطمینان لاتی رہتی ہیں ہر قدم جو ہم اپنی زندگی میں اُٹھاتے ہیں۔ وہ ہمیں مسیحؔ کے قریب تر لے جاتا ہے۔ اور اُس کی محبّت کا زیادہ تجربہ ہمیں حاصل ہوتا جاتا ہے۔ اور ہمیں اُس صُلح کے مُبارک گھر کے زیادہ قریب لے جاتا ہے۔ اِس لئے ہمیں اپنا تو کلّ اُس پر سے ہرگز نہیں ہٹانا چاہئیے۔ بلکہ اپنے اِیمان اور یقین کو پہلے سے بھی زیادہ مضبُوط اور پختہ کر دینا چاہئیے۔ کیونکہ یہاں تک تو خُدا نے ہماری امداد کی۔ اسموئیل۷:١۴۔ اور یقین ہے کہ وہ ہماری مدد آخر تک کرتا رہے گا۔ آئیے ہم یادگار کے ستُونوں کو فراموش نہ کریں۔ جو اِس بات کے شاہد ہیں۔ کہ خُدا نے ہمیں تسلّی دینے اور تباہ کُن کے ہاتھ سے بچانے کے لئےکیا کیا کِیا ہے۔ آئیے ہم خُدا کی تمام عنایات پر ہر لحظہ نِگاہ رکھیں۔ جو اُس نے ہم پر کی ہیں۔ آنسُو جو اُس نے پُونچھے ہیں۔ دُکھ و درد جو اُس نے دُور کیے۔ فکریں دُور کیں۔ خوف و ہراس ہٹا دئیے حاجتیں رفع کیں۔ برکات بخشیں۔ یُوں جو کُچھ ہمارے سامنے ہے۔ اُس کے ذرِیعہ سے ہماری باقی ماندہ زندگی میں ہماری تقویت فرمائی ہے۔ TK 163.3

    آنے والے معرکہ کی پریشانی مصیبتوں کو دیکھ کر ہم کیا کر سکتے ہیں!جیسے ہم آنے والی مصیبتوں پر نظر کرتے ہیں۔ وَیسے ہی ہمیں گذشتہ باتوں پر بھی غور کر کے یُوں کہنا چاہئیے کہخُداوند نے یہاں تک تو ہماری مدد کی۔ جیسے تیرے دِن ہوں ویسی تیری قُوّت ہو۔ اِستثناء۳۳:۲۵۔ آزمائشیں ہماری اِس قوّت سے جو ہمیں برداشت کرنے کے لئے مرحمت ہُوئی ہے۔ زیادہ نہ ہونگی۔ پس جہاں موقع ملے ہمیں اپنا کام شرُوع کر دینا چاہئیے۔ اور اِس بات کا یقین رکھیں۔ کہ اگر آزمائش آئیگی۔ تو اُس کے برداشت کرنے کی قُوّت بھی اُسی نسبت سے عطا ہوگی۔ TK 164.1

    رفتہ رفتہ آسمانی مکانات کے پھاٹک فرزندانِ خُدا کے داخل ہونے کے لئے کھولے جائیں گے۔ اور جلال کے بادشاہ کی زبانِ مُبارک سے یہ دلکش الفاظ سُنائی دینگے۔اے میرے باپ کے مبارک لوگو جو بادشاہی بنائے عالم سے تمہارے لئے تیاّر کی گئی ہے اُسے میراث میں لو متی ۲۵:۳۴TK 164.2

    اُس وقت نجات یافتہ لوگوں کو اُن مکانات میں جن کو مسیحؔ تیار کر رہا ہے۔ خُوش آمدید کہا جائے گا۔ وہاں اُن لوگوں کے ہم صحبت بدکار جھُوٹے۔ بت پرست۔ناپاک اور بے اِعتقاد نہ ہونگے۔ بلکہ وہ لوگ ہوں گے۔ جو شیطان پر فتح حاصل کر چُکے ہیں۔ اور خُدا کے فضل سے نہایت ہی پاکیزہ چال چلن حاصل کر چُکے ہیں۔ ہر بُری خواہش، ہر ناپاکی جو اُن کو اِس دنیا میں تکلیف دیتی ہے۔ مسیحؔ کے خُوں کی بدولت اُن سے جُدا کر دی گئی ہے۔ اور اُس کے جلال کی روشنی جو آفتاب کو بھی شرمندہ کرتی ہے۔ اُن کو دی جائے گی۔ اخلاقی خُوبی اور مسیحؔ کی سِیرت کی کاملیت کی جھلک اُن میں نظر آئے گی۔ جو اُس ظاہری جاہ و جلال سے کہیں بلند پایہ ہے۔ وہ اُس عظیم الشان تخت کے رُو برُو بے گُناہ ہوں گے۔ اور فرشتوں کے درجوں میں شریک ہونگے۔ TK 165.1

    اس جلالی میراث کو مدّنظر رکھتے ہُوئے۔جو انسان کو مِلتی ہے۔ وہ اپنی جان کے بدلے کیا دے گا؟ متی ١٦:۲٦۔ ممکن ہے کہ وہ غریب ہو۔ تاہم وہ ایک اَیسی عزّت و دولت رکھتا ہے جِسکو دُنیا نہیں دے سکتی ہے۔ اور جس کے مقابل مالِ دنیا ناچِیز اور ہیچ ہے۔ وہ نجات یافتہ رُوح جو گُناہ سے پاک اور صاف کی گئی ہو۔ اور اپنی تمام قُوتّوں سمیت خُدا کی خدمت کے لئے مخصوص کی گئی ہو۔ نہایت ہی بیش قیمت اور انمول شے ہے۔ ایک نجات یافتہ رُوح کے لئے خُدا کے حضُور اور فرشتوں کے مابین خُوشی ہوتی ہے۔ اور اِس خُوشی کا اِظہار فتح کے راگوں کے ذریعہ کیا جا تا ہے۔
    تمام شُد
    TK 165.2

    Larger font
    Smaller font
    Copy
    Print
    Contents