Loading...
Larger font
Smaller font
Copy
Print
Contents
  • Results
  • Related
  • Featured
No results found for: "undefined".
  • Weighted Relevancy
  • Content Sequence
  • Relevancy
  • Earliest First
  • Latest First
    Larger font
    Smaller font
    Copy
    Print
    Contents

    ۲ باب
    گنہگار کو مسِیحؔ کی ضرُورت

    قُدرت نے اِنسان کو شرافت اور منصف مزاجی کی صفتوں سے مزین کیا تھا۔ اِنسان بلکل ہی کامل خلق کیا گیا تھا۔ اور اُسے تقرب الہی بھی حاصل تھا۔ اُس کے ارادے، خیالات اور مقاصد بلکل پاک نیک اور مُتبرک تھے۔ مگر چونکہ اُس نے نافرمانی کی۔ اِس لئے اُس کے تمام عُمدوخصائل غارت ہوگئے۔ اور محبت کی بجائے خودغرضی اُس کے دِل میں قائم ہوگئی۔ نافرمانی کی بدولت وہ فطرۃً اِیسا کمزور ہوگیا۔ کہ بدی کی طاقت کا مقابلہ اُس کی اپنی قُوت سے بلکل محال ہوگیا۔ شیَطان نے اُسے اپنا اسیر اور غُلام بنالیا۔ اور اگر خُدا اپنی رحمت سے اُس کی خلاصی کی تدبیر نہ کرتا۔ تو وہ ہمیشہ شیَطان کا غُلام بنا رہتا۔ شیَطان کی یہ خواہش تھی۔ کہ اِنسان کے خلق کئے جانے میں کو الہیٰ اِنتظام تھا۔ اُس میں رخنہ اندازی پَیدا کرے۔ اور دُنیا کو غم و الم، تباہی اور بربادی سے بھردے۔ اور سب پر یہ ظاہر کردے۔ کہ خُدا کے اِنسان کو پَیدا کرنے کا یہ نتیجہ ہے۔ TK 17.1

    اپنی بے گناہی کی حالت میں اِنسان کو تقربِ خُدا حاصل تھا۔ جِس میں حکمت اور معرفت کے سب خزانے پوشیدہ ہیں۔ (کُلیوں ۲: ۳ ) اور اُس تقرب سے انسان خوش و خرم تھا۔ لیکن نافرمانی کے بعد اُس کو خُدا کی حضوری میں رہنا ناگوار معلوم ہونے لگا اور اس نے خُدا کے حضور سے اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کی۔ یہی پُرانی بات یعنی انسان کے بے تبدیل دِل کی یہی حالت ہنوز نظر آتی ہے۔ وہ تقرب الہیٰ سے دوُر ہے۔ اور اُسے خُدا سے محبت رکھنے سے خوشی نہیں ہوتی ہے۔ گنہگار کو خُدا کی حضوری سے خوشی و خُرمی نہیں ہوتی۔ اور وہ فرشتوں کی صحبت سے دوُر بھاگتا ہے۔ بفرض محال اگر کِسی گنہگار کو بہشت میں داخل کر بھی دِیا جائے۔ تو اُسے کوئی مُسرت نہ ہوگی۔ کیونکہ وہاں تو وہ محبت حُکمران ہے۔ جِسے خودُغرضی سے کوئی تعلق نہیں۔ اور غیر محدود محبت کا چرچا ہے۔ یہ باتیں اس خودغرض اور ناپاک دِل کے لئے مُسرت اور دلبستگی کا باعث نہ ہوگی۔ اُس کے خیالات اُس کی دلچسپی اُس کی خواہشات اور خصائل پاک آسمانی باشندوں سے بلکل غیر ہونگے۔ وہ وہاں کی خوشگوار مُسرت میں بے لُطفی پیدا کرنے کا موجب ہوگا۔ اور بہشت اُس کے لئے پریشانی اور مصیبت کی جگہ بن جائیگی۔ وہ شخص اُس وجُود پاک سے جو نور میں رہتا ہے اور وہاں کے باشندوں کی شادمانی کا مرکز ہے۔ روپوشی کا خواہاں ہوگا۔ خُدا کا یہ فرمان کہ شریر بہشت سے دوُر رکھے جائیں بیجا نہیں ہے۔ کیونکہ شریر تو خود اپنے کام سے پاک لوگوں کی جماعت سے دوُر ہوجائینگے۔ اور خُدا کا جلال اُنہیں ایک جلانے والی آگ معلوم ہوگا۔ اور وہ نیست و برباد ہوجانے کی تمنا کرینگے۔ تاکہ اُس کے چہرے سے روپوش ہوں۔ جو اُن کی محلصی کے لئے مصلوب ہُؤا تھا۔ TK 18.1

    ہمارے اِمکان سے یہ باہر ہے۔ کہ ہم اپنی قوت سے گناہ کی اس دلدل سے باہر نکل آئیں۔ جِس میں ہم پھنس گئے ہیں۔ ہمارے دِل بُرے ہیں۔ اور ہم اپنے دِل کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ حضرت ایوُب کا قول ہے۔ کہ ناپاک چیز میں سے پاک چیز کون نکال سکتا ہے۔ کوئی نہیں۔ ایوب ۱۴: ۴۔ اِس لئے کہ جسمانی نیت خُدا کی دُشمنی ہے۔ کیونکہ نہ تو خُدا کی شریعت کے تابع ہے۔ نہ ہو سکتی ہے۔ رومیوں ۸: ۷، تعلیم و تربیت اور تہذیب و تمدن، مرضی و اِرادہ، کوشش و سعی ضروری ہیں۔ لیکن نجات کے کام میں سب بے کار ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ اِن چیزوں سے انسان اپنی وضع طریق اور بیرونی حالت کو سدھار لے۔ لیکن قلب کی اصلاح اِن سے محال ہے۔ اِن میں یہ قدرت نہیں ہے۔ کہ انسان کے دِل کی تبدیلی کرسکیں۔ یا اُس کے حیات کے چشمہ کو صاف کرسکیں۔ قبل اِس کے کہ اِنسان ناپاکی کی حالت سے پاکیزگی کی حالت میں تبدیل ہو۔ اِس بات کی ضرورت ہے۔ کہ کوئی قوت انسان کے باطن میں پیدا ہو۔ یعنی نئی زندگی اُوپر سے عطا ہو۔ وہ قوت مسِیحؔ ہے۔ صرف اُس کا فضل انسان کی روح کی مُردہ صفات میں جان ڈال سکتا ہے۔ اور اُسے خُدا یعنی پاکیزگی کی طرف راغب کرسکتا ہے۔ منجی مسیح کا قول ہے۔ کہ جب کت کوئی نئے سِرے سے پَیدا نہ ہو۔ یا جب تک انسان کو نیا دل نہ مل جائے۔ اُس کی خواہشات، افعال، مقاصد اور ارادے سب کے سب بلکل نئے ہو کر نئی زندگی کی طرف راغب نہ ہوجایئں۔ وہ خُدا کی بادشاہت کو دیکھ نہیں سکتا۔ یوحنا ۳: ۳۔ یہ خیال کہ وہ خوبی جو انسان میں فطرۃً موجود ہے۔ صرف اُس کو ترقی دینا چاہئیے۔ ما لکل دھوکا ہے۔ نفسانی آدمی خُدا کے روُح کی باتیں قبول نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ اُس کے نزدیک بیوقوفی کی باتیں ہیں۔ اور وہ نہ وہ اُنہیں سمجھ سکتا ہے۔ کیونکہ وہ روُحانی طَور پر پرکھی جاتی ہیں۔ ۱ کرنتھیوں ۲: ۱۴۔ تعجب نہ کر کہ میں نے تجھ سے کیا کہ تجھے نئے سرے سے پیدا ہونا ضروری ہے۔ مسِیحؔ کی بابت لکھا ہے۔ کہ اُس میں زندگی تھی۔ اور وہ زندگی آدمیوں کا نُور تھی۔ کیونکہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی اور نام نہیں بخشا گیا۔ جِس کے وسیلے سے ہم نجات پاسکیں۔ یُوحنا ۳ : ۱۷ اعمال ۴ : ۲، خُدا کی مہربانی محبت اور پدرانہ شفقت ہی پر غوروفکر کرنا کافی نہیں ہے۔ اور نہ یہ کافی ہے۔ کہ اِنسان خُدا کی شریعت کی دانش عدل و انصاف پر غور کرکے یہ دیکھ لے کہ یہ پاک محبت کے اصوُل پر قائم کی گئی ہے۔ پولوس رسوُل نے جب اِن سب باتوں پر غور کرکے کہا مَیں مانتا ہوں کہ شریعت خوُب ہے۔ شریعت پاک ہے۔ اور حکم بھی پاک اور راست اور اچھا ہے۔ اور جب وہ اپنی رُوح کی بڑی بے تابی اور بے قراری میں دلسوزی سے کہتا ہے۔ میں جسمانی اور گناہ کے ہاتھ بِکا ہُؤا ہوں۔ رومیوں ۷ : ۱۴،۱۲،۱۶ ۔ وہ پاکیزگی اور راستبازی کا دِل سے خواہاں تھا۔ لیکن جب وہ اپنی قوت سے اُسے حاصل نہیں کر سکتا تھا تو کہتا ہے۔ ہائے میں کَیسا کمبخت آدمی ہوں۔ اِس مَوت کے بدن سے مُجھے کون چھڑائیگا۔ رومیوں ۷ : ۲۴، یہی پکار و آہ و نالہ ہر مُلک اور ہر زمانہ میں گناہ کے ناقابل برداشت بوجھ سے دب ہُوئے لوگوں کے دِلوں سے بلند ہوتا ہے۔ اور تمام ایسے لوگوں کے لئے صرف یہی ایک جواب ہے۔ دیکھو خُدا کا برہ جو دنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔ یُوحنا ۱ : ۲۹۔TK 19.1

    طرح طرح کی مثالوں سے خُدا کے روُح کے اِس صداقت کی تشریح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اُن لوگوں سے جو گناہ کے بوجھ سے خلاصی اور چھٹکارا پانا چاہتے ہیں یہ صاف طور سے بیان کرنا چاہا ہے۔ جب یعقوُبؔ اپنے بھائی عیساؤ کو فریب دینے سے گناہ کا مرتکب ہو کر اپنے باپ کے گھر سے بھاگ گیا۔ تو اُس گناہ کے باعث اُس کے دِل پر غم و الم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ وہ تن تنہا بے یاروغمگسار ہُؤا اور زندگی کے مُسرت بخشنے والے تعلقات اُس سے منقطع ہوگئے۔ اُس کو ہر لحظہ دوسرے خیالوں کی نسبت یہ خیال پریشان کئے تھا۔ وہ ڈرتا تھا کہ میرے گناہ نے مجھے خُدا سے الگ کردِیا ہے۔ خُدا نے مجھے چھوڑ دِیا ہے۔ الغرض اِن ہی تصورات میں وہ پتھریلی زمین پر لیٹ گیا۔ اُس کے اردگرد سوائے ویران پہاڑوں کے اور کچھ نہ تھا۔ اُس کے سر پر سوائے نیلگوں آسمان کے جس میں تارے جگمگارہے تھے اور کوئی شے نہ تھی۔ جونہی اُس کی آنکھ لگی۔ اُس نے دیکھا۔ کہ ایک عظیم نوُر اور اُجالا پَیدا ہُؤا۔ اور جہاں وہ پڑا تھا۔ وہاں سے آسمان تک ایک زینہ لگا ہوا دکھائی دیا۔ اور فرشتے اُس پر سے چڑھتے اور اترتے ہیں۔ اُس زینہ کی انتہا پر جلال میں سے ایک محبت بھری آواز اُمید اور تزفی کا پیغام لائی یوں حضرت یعقوبؔ کی روُح کی ضرورت اور خواہش پوری ہُئی کہ ایک شفیع موجود ہے۔ شادمانی اور شکرگزاری سے یعقوب نے اُس راہ پر نظر کی۔ جس سے وہ اپنے خُداوندِعالم کی قربت حاصل کرسکتا تھا۔ یہ عجیب سیڑھی جو اُس نے خواب میں دیکھی۔ خُداوند مسِیحؔ کو ظاہر کرتی تھی۔ کیونکہ وہی اِنسان اور خُدا کے درمیان قربت اور تعلّق پَیدا کرانے والا ذریعہ ہے۔ TK 21.1

    یہی وہ مثل تھی۔ جِسے خُداوند یسُوع مسِیحؔ نے نتنِ ایل سے کلام کرتے وقت بیان کیا تھا۔ کہ تم آسمان کو کُھلا اور خُدا کے فرشتوں کو اوپر جاتے اور ابنِ آدم پر اُترتے دیکھوگے۔ یُوحنا ۱ : ۵۱۔ اِنسان نے مخرف ہوکر خُدا سے اپنا تعلّق قطع کرلِیا ہے۔ زمین کے تعلّقات آسمان سے منقطع ہوگئے تھے۔ اِس لئے خُدا اور انسان کے درمیان ایک بحرِ مفارقت پَیدا ہو گئی۔ اور اِس کی وجہ سے انسان خدا سے تعلقات قائم نہ رکھ سکتا تھا۔ مگر مسِیحؔ کے ذریعہ سے زمین کا تعلق پھر آسمان سے ہوگیا۔ اور مسِیحؔ نے اس خندق پر جو گناہ کی بدولت پیدا ہوگئی تھی۔ ایک پُل اپنی قدرتِ کاملہ سے بنادیا۔ تاکہ خدمت گزار فرشتے بنی آدم سے اتحاد و ربط رکھ سکیں۔ مسِیحؔ گرے ہوئے اِنسان کو اُس کی ناتوانی اور کمزوری میں لامحدود قدرت کو چشمہ سے جوڑدیتا ہے۔ TK 22.1

    اگر انسان گری ہُوئی نسلِ اِنسان کی مدد اور اُمید کے واحد چشمہ کو ترک کردے۔ تو اپنی ترقی کیلئے اسکے خواب بیکار ہیں۔ اور اِنسانیت کے اوج و معراج کے خیال رائیگاں ہیں۔ ہر اچھّی بخشش اور کامل انعام خُدا سے ہے۔ یعقوب ۱ : ۱۷۔ اُس سے الگ ہوکر حقیقی خصائل ناممکن ہیں۔ اور خُدا تک رسائی کا واحد طریقہ مسِیحؔ ہے۔ مسِیحؔ نے خود بھی فرمایا ہے۔ راہ، حق اور زندگی مَیں ہوں۔ کوئی میرے وسِیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔ یوحنّا ۱۴ : ۶۔TK 23.1

    خُدا اپنے دنیوی فرزندوں (یعنی اِنسان) سے اَیسی محبت کرتا ہے۔ جو مَوت سے بھی زبردست ہے۔ اُس نے اپنے اِکلوتے بیٹے کو ہمارے بدلے میں دیکر آسمان کی تمام نعمتیں ایک ہی نعمت میں بخش دی ہیں۔ مسِیح کی زندگی اور مَوت اور شفاعت پاک فرشتوں کی خدمت، روُحُ القدُس کی اِلتجا۔ خُدا جو اِن سب میں اور ان سب سے بلند کام کرتا ہے۔ آسمانی مخلوقات کی بے پایاں دلچسپی۔ یہ سب کُچھ اِسی مقصد سے ہے۔ تاکہ اِنسان نجات پائے۔TK 23.2

    ذرا اُس عجیب و غریب قربانی پر جو ہمارے لئے کی گئی ہے۔۔ غور کریں۔ اور اُس محبت و جانفشانی کی قدر کریں۔ جو خدا گمراہ کو واپس لانے اور بچھڑے ہُوئے کو دوبارہ اپنے پاک گھر تک پہنچانے کے لئے کررہا ہے۔ اس سے بڑھ کر معقعل اسباب اور قوی ذرائع آج تک عمل میں نہیں لائے گئے۔ یہ راستبازی کے بیش بہا انعامات کہ آسمانی شادمانی، فرشتوں کی صحبت و قربت۔ خُدا اور اُس کے بیٹے کی نزدیکی اور محبت ہمیشہ کے لئے ہمارے اختیارات کی بے حد سرفرازی اور کشادگی۔ کیا یہ تمام بیش بہا عنایات ہم کو مجبوُر نہیں کرتی کہ ہم خالق ارع منجی کو محبّت بھرے دل کی خدمات پیش کریں!TK 24.1

    اس کے برعکس گُناہ کے خلاف خُدا کے عدل و اِنصاف و فتویٰ کو ناگزیر سزا ہے اور ہمارے چال چلن کی رذالت اور آخرکار ابدی ہلاکت خُدا کے کلام میں ہمیں شیَطان کی خدمت سے آگاہ کنے کے لئے مزکوُر ہیں۔TK 24.2

    کیا ہم خُدا کے رحم کی قدر نہ کریں؟ اِس سے زیادہ اور وہ کیا کرسکتا تھا ! پس ہمیں لاز ہے۔ کہ ضرور ہم اُس سے جِس نے ہم سے اَیسی محبت کی۔ گہرا تعلّق پیدا کریں جِتنے ذرائیع ہمارے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ ہم سب سے فائدہ اُٹھائیں۔ تاکہ ہم اُس کے ہمشکل ہوجایئں اور خدمت کرنے والے فرشتوں سے تعلقات اور محبت میں بحال ہوں۔ اور خُدا اور اُس کے بیٹے کی قربت ہمیں حاصل ہو۔TK 24.3

    Larger font
    Smaller font
    Copy
    Print
    Contents