Loading...
Larger font
Smaller font
Copy
Print
Contents

عظیم کشمکش

 - Contents
  • Results
  • Related
  • Featured
No results found for: "".
  • Weighted Relevancy
  • Content Sequence
  • Relevancy
  • Earliest First
  • Latest First
    Larger font
    Smaller font
    Copy
    Print
    Contents

    چھتیسواں باب - قریب الوقوع تصادم کا خطرہ

    عظیم کشمکش جو آسمان میں شروع ہوئی اس کے متعلق ابتدا سے ہی ابلیس کا یہ عزم رہا ہے کہ وہ خدا کی شریعت کو تہہ وبالا کرے- اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے وہ خالق خداوند کی مخالفت پر آمادہ ہو گیا، گو اسے آسمان سے گرا دیا گیا تو بھی اس نے اس جنگ کو زمین پر جاری رکھا-اس نے آل آدم کو بہکایا تاکہ وہ خدا کی شریعت کو پامال کرے اور اس کام کے مقصد کی تکمیل کو وہ بڑی ثابت قدمی سے جاری رکھے ہوۓ ہے- خواہ وہ ساری شریعت کو زیر وزبر کرے یا اس کے کسی ایک حکم کو رد کرے- دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک سا ہی برآمد ہو گا کیونکہ “جس نے ساری شریعت پر عمل کیا اور ایک ہی بات میں خطا کی وہ سب باتوں میں قصوروار ٹھہرا” یعقوب -10:2AK 560.1

    الہی شریعت کی تحقیر کرنے کے لئے ابلیس نے کتاب مقدس کی تعلیم کو توڑموڑ دیا ہے یوں ان ایمانداروں کے ایمان میں غلط تعلیم سما گئی ہے جو پاک کلام پر ایمان رکھتے ہیں- عظیم کشمکش جو جھوٹ اور سچ کے درمیان عرصۂ سے جاری ہے اسکا آخری قطعی مرحلہ جو خدا کی شریعت کے بارے ہے عنقریب وقوع میں آنے کو ہے- اب ہم اس جنگ میں داخل ہونے کو ہیں جو انسانوں کی بنائی ہوئی شریعت اور یہواہ کی شریعت کے درمیان جاری ہے- ہم اس جنگ میں داخل ہو رہے ہیں جو بائبل کے مذہب اور فرضی روایات کے درمیان جاری ہونے والی ہے-AK 560.2

    وہ ایجنسیاں جو صداقت اور راستبازی کے خلاف الحاق کریں گی وہ اب بڑی سرگرمی سے کام جاری رکھے ہوۓ ہیں- خداوند کا پاک کلام بڑی مصیبت، خونریزی اور بڑی قیمت چکانے کے بعد ہمارے حوالے کیا گیا ہے اس کی کچھ زیادہ قدر نہیں کی جا رہی-کتاب مقدس تو سب کی رسائی میں ہے مگر بہت کم لوگ اسے زندگی کا رہبر تسلیم کرتے ہیں- بےدینی خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے- صرف دنیا میں ہی نہیں بلکہ کلیسیا میں بھی بہتیرے ایسے ہیں جو ان تعلیمات کا انکار کرتے ہیں جو مسیحی ایمان کا ستون ہیں- جیسے کہ تخلیق کی تعلیم جو الہام سے مصنفین نے پیش کی، انسان کا گناہ میں گرنا، کفارہ اور خدا کی شریعت کا دائمی ہونا- اسے مسیحی دنیا اگر پوری طرح رد نہیں کرتی تو کم ازکم اس کے کچھ حصوں کا انکار ضرور کرتی ہے- ہزاروں جنہیں اپنی حکمت پر ناز ہے وہ خیال کرتے ہیں کہ بائبل پر مکمل بھروسہ کرنا کمزوری کا ثبوت دینا ہے- ان کے خیال میں کتاب مقدس پر نکتہ چینی کرنا اور جو سچائیاں بڑی اہمیت کی حامل ہیں انکی تشریح کرنا بہت بڑا وصف رکھنے کے برابر ہے- بہت سے خدام الدین اپنے لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں، اور اسی طرح بہت سے ٹیچرز اور پروفیسرز اپنے طالبعلموں کو سکھا رہے ہیں کہ خدا کی شریعت منسوخ ہو چکی ہے- اور وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی شریعت کے مطالبات کی ابھی تک قانونی حیثیت قائم ہے- اور انکو من وعن ماننا فرض ہے ان سب کا مذاق اڑایا جاتا یا انکی توہین کی جاتی ہے-AK 560.3

    جب کہ سچائی کو رد کرنے سے لوگ دراصل اسکے خالق کو رد کرتے ہیں- خدا کی شریعت کو پامال کرنے سے وہ شریعت کو دینے والے کے اختیار سے انکار کرتے ہیں- جھوٹی تعلیم اور جھوٹے نظریات کا بت بنانا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ لکڑی یا پتھر کا بت گھڑنا- شیطان خداوند کے اوصاف کو غلط رنگ دے کر اور لوگوں کے سامنے پیش کر کے اسکی سیرت کی غلط نمائندگی کرتا ہے- بہتوں کے پاس یہواہ کی بجائے فلسفیانہ بت ہے- جب کہ زبدہ خدا جیسا کہ اسکے کلام میں، مسیح یسوع میں، اور تخلیق کے کام میں ظاہر ہے اسکی عبادت بہت ہی کم لوگ کرتے ہیں- ہزاروں ہیں جو فطرت کی تو پوجا کرتے ہیں مگر فطرت کے مالک کا انکار کرتے ہیں- گو یہ مختلف صورتوں میں ہے- آج بھی مسیحی دنیا میں اسی طرح بتپرستی پائی جاتی ہے جیسے کہ قدیم اسرائیلیوں میں ایلیاہ کے زمانے میں پائی جاتی تھی- بہت سے ایماندار، دانشمند لوگوں کا، فلاسفروں کا، شاعروں، سیاستدانوں، جرنلسٹس، مہذب فیشن ایبل سرکلز کا بہت سے کالجز اور یونیورسیٹیز کا حتی کہ تھیالوجیکل انسٹیوشنز کا دیوتا، بعل اور سور فینکی کے دیوتا سورج سے تھوڑا ہی بہتر ہے-AK 561.1

    کوئی اور غلط تعلیم جو مسیحی دنیا نے قبول کی آسمان کے خدا کے اختیار کے خلاف اتنی بیباکی سے حملہ آور نہیں ہوئی، اور نہ ہی اتنی مضرت رساں ثابت ہوئی ہے، جتنی کہ یہ جدید تعلیم (Doctrine) جسے بڑی تیزی سے حمایت حاصل ہو رہی ہے کہ “خدا کی شریعت انسانوں کے لئے اب لازم نہیں رہی”- ہر قوم کے اپنے قوانین ہیں جو فرمانبرداری اور تعظیم کا مطالبہ کرتے ہیں- کوئی بھی گورنمنٹ ان کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی اور کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ زمین وآسمان کے خالق ومالک کے ان جانداروں کے لئے کوئی قانون نہیں جنھیں اس نے تخلیق کیا؟ فرض کریں کہ معروف منسٹرز پبلک کو یہ تعلیم دینا شروع کر دیں کہ وہ قوانین جو انکے ملک پر چلائے جاتے ہیں، جو اسکے شہریوں کی جان ومالکی حفاظت کرتے ہیں، انکو ماننے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ لوگوں کی آزادی میں حائل ہوتے ہیں- اس لئے انہیں نہیں ماننا چاہیے- ایسے مسٹرز کو کتنی در تک انہیں پلپٹ پر رہنے دیا جائے گا؟ کیا ریاست اور قوم کے قوانین کو پامال کرنا الہی قوانین کو کرنے کی نسبت زیادہ خطرناک ہے جو تمام حکومتوں کی بنیاد ہے-AK 561.2

    یہ تو قوموں کے عین مزاج کے مطابق ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ملکی قوانین کو معطل کر دیں اور لوگوں کو من مانی کرنے دے تاکہ خداوند خدا جو تمام کائنات کا حاکم ہے اگر وہ اپنے قوانین کو معطلکر دے اور انہیں اپنے معیار قائم کرنے دیں کہ وہ قصوروار کو مجرم اور وفادار کو راستباز قرار دیں- کیا ہم خدا کے قوانین کو معطل کرنے کے نتائج کو جانتے ہیں؟ یہ تجربہ آزمایا جا چکا ہے- فرانس میں بڑے ہولناک مناظر دیکھنے کو ملے جب بےدینوں کو حکومت دی گئی- اس وقت دنیا پر واضح ہو گیا کہ خدا کی شریعت کو پامال کرنے سے ظلمت کا دور دورہ دیکھنے کو ملا- جب راستبازی کا معیار ترک کر دیا جاتا ہے تو بدی کے شہزادے کے لئے راہ تیار کر دی جاتی ہے تاکہ وہ زمین پر اپنی حکومت قائم کرے-AK 562.1

    جہاں الہی قوانین رد کر دیئے جاتے ہیں وہاں گناہ نفرت انگیز دکھائی نہیں دیتا اور نہ ہی راستبازی کی خواہش پیدا ہوتی ہے- وہ جو خود کو خداوند کی حکومت کے سپرد کرنے سے انکار کرتے ہیں انہیں اپنے اوپر بھی کلی طور پر اختیار نہیں ہوتا- انکی نقصان دہ تعلیمات کے ذریعہ بچوں اور جوانوں کے دلوں میں نافرمانی کی روح جنم لیتی ہے جو فطرتی طور پر اپنے اوپر کنٹرول نہیں رخ سکتے- اس کے نتیجہ میں ایسی سوسائٹی معرض وجود میں آتی ہے جو قانون شکن اور شہوت پسند ہوتی ہے جو خداوند کے مطالبات کو مانتے ہیں جب انکی سریع الاعتقادی پر طعن وتشنیع کی جاتی ہے تو عوام بڑے ذوق وشوق سے شیطان کے مکروفریب کو تسلیم کر لیتے ہیں- وہ بری عادات کو اختیار دے دیتے ہیں اور ان گناہوں کی پریکٹس کرتے ہیں جو بے ایمانوں پر خداوند کی عدالت لاتے ہیں-AK 562.2

    وہ جو لوگوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ خدا کے احکام کی کچھ زیادہ فکر نہ کریں- وہ نافرمانی کی فصل بوتے اور نافرمانی کی فصل کاٹتے ہیں- خداوند کی طرف سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں اگر انہیں کلی طور پر ترک کر دیا جائے تو انسانی احکام کی بھی فورا بےقدری ہو گی- کیونکہ خداوند بے ایمانی، لالچ، جھوٹ اور فراڈ وغیرہ کی ممانعت کرتا ہے- عوام فورا دنیاوی فلاح وبہبود کی خاطر خداوند کے احکام کو پامال کریں گے جو ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں-مگر ان احکام کو دیس نکالا دینے کا نتیجہ اس قدر خوفناک ہو گا جسکا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا- اگر قانون کی کسی پر گرفت ہی نہ ہو گی تو کیوں کوئی جرم کرنے سے کترائے گا؟ کسی کی پراپرٹی محفوظ نہ ہو گی- اور ظلم وجبر سے لوگپڑوسیوں کی ملکیت پر قبضہ کر لیں گے- جو طاقتور ہے وہ امیرترین بن جائے گا- زندگی کی کچھ قدر نہ ہو گی- شادی پر کئے گئے قول واقرار جو خاندان کو قائم ودائم رکھتے ہیں انکا تقدس ختم ہو جائے گا- طاقتور کا جو جی چاہے گا کرے گا- وہ پڑوسی کی بیوی جبر سے ہتھیا لے گا- پانچواں حکم، چوتھے حکم کے ساتھ ترک کر دیا جائے گا- بچے اپنے ماں باپ کی زندگیاں لینے سے گریز نہیں کریں گے اگر ایسا کرنے سے ان کے بدکار دل کی تسکین ہوتی ہو- تہذیب یافتہ دنیا ڈاکوؤں اور مکار قاتلوں کی کھوہ بن جائے گی- امن، آرام اور مسرت دنیا سے عنقا ہو جائے گی- AK 562.3

    پیشتر ہی اس تعلیم کی وجہ سے عوام خدا کے مطالبات سے بری ہو گئے ہیں اس نے اخلاقی ذمہ داریوں کو کمزور کر دیا ہے اور دنیا میں بدکاری کے سیلابی گیٹ کھول دیئے ہیں- لاقانونیت، عیاشی اور بدکاری نے ہمیں طوفانی لہر کی طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے- خاندان کے اندر شیطان کام کرتا ہے حتی کہ اسکا جھنڈا مسیحی خاندانوں میں بھی لہراتا ہے- وہاں حسد، بدگمانی، ریاکاری، بےمہری، جھگڑے، فساد، دغابازی، اور نفسانی خواہش پائی جاتی ہے- مذہبی اصولات کا سارا نظام اور تعلیمات جسے سوشل لائف کی فونڈیشن بننا چاہیے تھا، ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے وہ ڈگمگاتی عمارت ہو جو کسی بھی وقت گر جائے گی-AK 563.1

    خبیث مجرم جب قانون شکنی کے الزامات کی وجہ سے پابند سلاسل کئے جاتے ہیں تو اکثر انہیں تحائف دیئے جاتے ہیں اور انکی بڑی مشہوری کی جاتی ہے جیسے کہ انہوں نے کوئی بڑا معرکہ مارا ہو- انکے جرائم اور کردار کی بڑی تشہیر کی جاتی ہے- پریس بڑی تفصیل سے انکی بدعادات کو شائع کرتا ہے جس سے دوسروں کو بھی فراڈ، ڈاکہ زنی اور قتل وغارت کے لئے حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور شیطان اپنی اس جہنمی سکیم کی کامیابی پر بغلیں بجاتا ہے- بدی سے والہانہ محبت، آوارہ اور اوباش زندگی، ہر طرح اور ہر جگہ ہولنات بڑھتی ہوئی بدی اور بدپرہیزی کو خدا سے ڈرنے والوں کو جگہ دینا چاہیے تاکہ وہ دریافت کریں کہ اس بدی کی لہر کو روکنے کے لئے کیا کیا جائے؟AK 563.2

    عدالتیں کرپٹ ہیں- حکمرانوں کو نفع اور شہوت پرستی انکی خواہش کو تحریک دیتی ہے- بدپرہیزی نے بہتوں کی ذہنی دماغی استعداد پر پردہ ڈال دیا ہے- یہاں تک کہ ابلیس نے انکا پورا پورا کنٹرول سنبھال لیا ہے-ماہرین قانون گمراہ کن، رشوت خور اور سبز باغ دکھانے والے بن گئے ہیں- جو قوانین کے محافظ ہیں ان میں شراب خوری، عیش وعشرت اور ہر طرح کی بے ایمانی پائی جاتی ہے- “عدالت ہٹائی گئی اور انصاف دور کھڑا ہو رہا- صداقت بازار میں پڑی اور راستی داخل نہیں ہو سکتی” یسعیاہ -14:59AK 564.1

    بدی اور روحانی تاریکی جو روم کے اختیار اعلی کے دوران غالب آئی، وہ کلام مقدس پر بندش لگانے کا لازمی نتیجہ تھا- مگر ہر جگہ بےدینی کے پھیلنے کی وجہ کہاں سے معلوم کریں- خداوند کی شریعت کی ناپسندیدگی اور اسکے بعد کرپشن جو انجیل کی تابناک روشنی میں جو مذہبی آزادی کے زمانہ میں وقوع پذیر ہوئی؟ اب شیطان الہی صحائف کو چھپا کر دنیا کو اپنے کنٹرول میں نہیں رکھ سکتا-وہی مقصد حاصل کرنے کے لئے وہ اب متفرق ذرائع استعمال کر رہا ہے- وہ اب بائبل مقدس پر لوگوں کے ایمان کم ہو رہا ہے، جو بائبل مقدس کو برباد کرنے کے مترادف ہے- یہ عقیدہ متعارف کروانے سے کہ شریعت کی پابندی کچھ ضروری نہیں، اس سے اس نے بڑے موثر انداز سے لوگوں کو گناہ کرنے کی ترغیب دی ہے جیسے کہ اس نے قدیم میں کیا، اب وہ بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے کلیسیاؤں کو استعمال کر رہا ہے- موجودہ زمانے کی مذہبی آرگنائزیشن نے کتاب مقدس کی ان سچائیوں کو سننے سے انکار کر دیا ہے جو ہردلعزیز نہیں ہیں- اور انکا مقابلہ کرنے کے لئے ایسی تشریحات اپنا لی ہیں جنہوں نے شک وشبہات کے بیج بع دیئے ہیں پاپائی نظام کی غلط تعلیم حیات جاودانی، اور موت کی حالت میں انسان باہوش رہتا ہے- اس سے چمٹے رہنے سے انہوں نے اس واحد پناہ کو رد کر دیا ہے جو سپرچولزم کی تعلیم کے خلاف تھی اسی طرح دائمی جہنم کی سزا کی تعلیم سے بہتیروں کا ایمان بائبل سے جاتا رہا ہے- اور جیسے کہ چوتھے حکم کے مطالبات لوگوں پر آشکارا ہیں اور حکما لاگو ہیں- تو اسکے مطالبات سے گریز کرنے کیلئے بہت سے ہر دلعزیز اساتذہ کہہ دیتے ہیں کہ خدا کی شریعت کو ماننا اب ضروری نہیں رہا- یوں وہ شریعت اور سبت دونوں کو رد کر دیتے ہیں- جیسے کہ سبت ریفارم کا کام پھیلے گا، چوتھے حکم کے مطالبات سے اجتناب کرنے کے لئے الہی شریعت کی یہ ناپسندیدگی عالمگیر ہو جائے گی- مذہبی لیڈرز کی تعلیم نے بے دینی، اور خدا کی مقدس شریعت کی توہین کے لئے دروازے کھول دیئے ہیں، اور وہ بدکاری جو مسیحی دنیا میں موجود ہے انکی ہولناک ذمہ داری انہی رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے-AK 564.2

    تاہم یہ کلاس دعوی کرتی ہے کہ کرپشن کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ “کرسچن سبت” کو توڑنا ہے-ان کا کہنا ہے کہ سنڈے کے نفاذ سے سوسائٹی کے احلاق میں بڑا سدھار آئے گا- یہ دعوی خصوصا امریکہ میں کیا جا رہا ہے جہاں حقیقی سبت کی منادی دورونزدیک کی جا رہی ہے- یہاں پرہیزگاری کا کام بہت ہی نمایاں اور ضروری اخلاقی ریفارم ہے، جسے اکثر سنڈے موومنٹ کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور اسکی وکالت کرنے والے خود کو سوسائٹی کی بھلائی کا کام کرنے والے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور جو انکے ساتھ الحاق کرنا نہیں چاہتے ان پر لعن طعنکی جاتی ہے اور انہیں ریفارم اور ٹمپرنس کا دشمن گردانا جاتا ہے- مگر حقیقت یہ ہے کہ غلط تعلیم کو ٹمپرنس کی تعلیم سے جوڑ رہی ہے جو بذات خود بہت اچھا کام ہے تاہم راست لوگ سنڈے کی غلط تعلیم کی حمایت نہیں کر سکتے- ہمس زہر کو صحت بخش غذا کے ساتھ ملا تو سکتے ہیں مگر ہم اسکی فطرت کو تبدیل نہیں کر سکتے بلکہ برعکس اس کے اگر اسے انجانے میں کھا لیا جائے تو یہ زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے- یہ شیطان کا حربہ ہے کہ وہ دروغ کے ساتھ کافی سچائی ملا دیتا ہے تاکہ وہ قابل قبول ہو- سنڈے موومنٹ کے لیڈرز ریفارمز کی وکالت کر سکتے ہیں جن کی لوگوں کو ضرورت ہے یہ وہ اصولات ہیں جو کتاب مقدس سے مطابقت رکھتے ہیں- مگر اس کے ساتھ ایسے امر بھی نتھی کر دیئے گئے ہیں جو خدا کی شریعت کے متضاد ہیں- خداوند کے خادم انکے ساتھ متحد نہیں ہو سکتے- یہ کسی بھی طرح مبنی برانصاف نہیں کہ خدا کے احکام کو برطرف کر کے انکی جگہ انسانی احکام نافذ کئے جائیں-AK 565.1

    وہ بڑی غلط تعلیمات جن میں ایک حیات جاودانی اور دوسری سنڈے کا تقدس، ان کے ذریعہ شیطان لوگوں کو اپنے فریب کا شکار کر لے گا- حیات جاودانی کی تعلیم سپرچولزم کی بنیاد قائم کرتی ہے، اور رومن کلیسیا کے ساتھ بندھن کی ہمدردی پیدا کرتی ہے-AK 565.2

    یونائیٹڈ سٹیٹس کے پروٹسٹنٹس پہلے ہوں گے جو گلف سے پڑے ہاتھ پھیلا کر سپرچولزم کو پکڑیں گے- اور پھر اپنے سینیا کی گہری کھائی پار کر کے رومن چرچ کے ساتھ بغل گیر ہوں گے اور ان تینبڑوں کے اتحاد سے یہ ملک روم کے نقش قدم پر چلتے ہوۓ ضمیر کے حقوق کو پامال کرے گا-AK 565.3

    جیسے کہ سپرچولزم موجودہ زمانہ میں برائے نام مسیحیت کی نقل کرتا ہے- اپنے جال میں پھنسانے کی سپرچولزم میں بڑی قوت ہے- شیطان نے خود کو بھی اس ماڈرن زمانہ کے مطابق ڈھال لیا ہے- وہ جلالی فرشتہ کی صورت میں ظاہر ہو گا- سپرچولزم کی ایجنسی کے ذریعہ معجزات دکھائے جائیں گے، بیماروں کو شفا دی جائے گی اور اسکے علاوہ بہتیرے ایسے عجائب دکھائے جائیں گے جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور جیسے ہی بدروحیں بائبل میں اپنے ایمان اور کلیسیا کے دستوروں کے لئے اپنی عقیدت کا اظہار کریں گی تو ان کے کام کو خداوند کا مظہر سمجھ کر قبول کر لیا جائے گا-AK 565.4

    حقیقی ایماندار مسیحیوں اور بے ایمانوں میں امتیاز کرنا ازحد دشوار ہو گیا ہے- کلیسیائی ممبرز وہی کچھ پسند کرتے ہیں جو دنیا پسند کرتی ہے اور ان کے ساتھ ملنے کے لئے تیار ہیں اور شیطان کا پورا پورا ارادہ ہے کہ وہ سب ایک ہو جائیں تاکہ وہ سب کو سپرچولزم کے جھنڈے تلے لے آئے- پوپ کے حامی جو معجزات کرتے ہیں وہ اس (سپرچولزم) معجزات دکھانے والی قوت کو بلاتامل قبول کر لیں گے- اور پروٹسٹنٹس جنہوں نے پناہ کی سپر کو ترک کر دیا ہے وہ بھی اس کے دھوکے کا شکار ہو جائیں گے- پوپ کے حمایتی، پروٹسٹنٹس اور دنیا کے دلدادے اس خدا ترسی کی قوت کو قبول کر لیں گے اور وہ اس اتحاد میں دنیا کی تبدیلی کی بہت بڑی موومنٹ کو دیکھیں گے-AK 566.1

    سپرچولزم کے ذریعہ شیطان اس نسل کے سامنے بطور فائز رساں کے ظاہر ہوتا ہے، لوگوں کی بیماریاں دور کرتا ہے، اور دنیا کے سامنے نیا اور اعلی مذہبی نظام پیش کرنے کا دعوی کرتا ہے- مگر بیک وقت وہ برباد کرنے والے کی طرح کام کرتا ہے- اسکی آزمائشیں عوام کو تباہی کی طرف لے جاتی ہیں- بدپرہیزی عقل وشعور کو برباد کر دیتی ہے- شہوت پرستی جدل وجدا، اور قتل وغارت شروع ہو جاتی آہی- شیطان لڑائی جھگڑوں میں خوشی محسوس کرتا ہے کیونکہ اس سے لوگوں کے دلوں میں بدترین جذبات بھڑک اٹھتے ہیں اور ہر اس کے ستم رسیدہ بدکاری کی پستیوں میں اتر جاتے ہیں- یہ تو اسکا کلی مقصد ہے کہ قوم کو قوم پر چڑھائی کرنےکے لئے اکسائے کیونکہ یوں لوگوں کی توجہ روز عدالت میں خداوند کے حضور کھڑے ہونے کی تیاری کی طرف سے ہٹ جاتی ہے-AK 566.2

    غیر تیار شدہ روحوں کی فصل کو اپنے غلے کے گودام میں جمع کرنے کے لئے وہ جزولازم کا بھی سہارا لیتا ہے- اس نے فطرت کی لیبارٹریز کے بھیدوں کا مطالعہ کیا ہے- اور جہاں خدا اسے ان عناصر کو استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے وہاں وں کنٹرول کرنے کے لئے اپنی تمام قوت کو استمال کرتا ہے- جب اس ن اے ایوب کو اذیت دی تو کتنی جلدی اسکا ریوڑ اور جھنڈ، نوکر چاکر، گھر، بچے برباد کر دیئے گئے، چند لمحوں میں ایک مصیبت کے بعد دوسری مصیبت نمودار ہو گئی- یہ خداوند خدا ہی ہے جو اپنی مخلوق کو پناہ دیتا ہے اور تباہ کرنے والے سے انھیں بچاتا ہے-مگر مسیحی دنیا نے یہواہ کی شریعت کی توہین کی ہے اور خداوند وہی کچھ کرے گا جو کچھ اس نے کہہ دیا ہے- وہ اپنی برکات کو زمین پر سے اٹھا لے گا اور جو اسکی شریعت اور اسکی تعلیم کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کے لئے اکساتے ہیں انکا دفاع نہیں کرے گا- شیطان نے ان سب کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے جن کی پناہ خداوند قادر مطلق خدا نہیں ہے- شیطان اپنا مقصد پانے کے لئے بعض کی حمایت کرے گا اور انہیں فروغ دے گا- جبکہ دوسروں پر مصائب ڈھائے گا اور انہیں یقین دلائے گا کہ یہ تباہی آپ پر خداوند کی طرف سے آئی ہے-AK 566.3

    آل آدم پر وہ ایسے ظاہر ہوتا ہے جیسے کہ وہ عظیم طبیب ہے اور ہر طرح کے مرض سے شفا دے سکتا ہے- مگر وہ بیماریاں اور مصائب بھی اس وقت تک لاتا رہتا ہے جب تک شہروں کی گنجان آبادی تباہی اور ویرانی کا شکار نہیں ہو جاتی- وہ اب بھی اپنے کار بد میں مصروف ہے- حادثوں، زمین اور سمندر کے خطرے ہولناک آتشزدگی، جھکڑ آندھی، طوفان وغیرہ اور خطرناک ژالہ باری، دنگا فساد میں، سیلابوں، گردوباد (بگولے) مدوجزر کی لہریں، بھونچال میں وہ ہر جگہ اور ہزاروں صورتوں میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے- وہ پکی فصلوں کو تباہ کر دیتا ہے- جسکی وجہ سے تشویش قحط اور مایوسی پھیلتی ہے- وہ ہوا کو خطرناک حد تک آلودہ کر دیتا ہے اور ہزاوں وبائی مرض سے برباد ہو جاتے ہیں- اس طرح کے عذاب زیادہ سے زیادہ ہوتے چلے جائیں گے- یہ تباہی انسانوں اور حیوانوں دونوں پر آئے گی-AK 567.1

    “زمین غمگین ہوتی اور مرجھاتی ہے- جہاں بیتاب اور پژمردہ ہے- زمین کے عالی قدر لوگ ناتواں ہوتے ہیں- زمین اپنے باشندوں سے نجسس ہوئی کیونکہ انہوں نے شریعت کو عدول کیا- آئین سے منحرف ہوۓ- عہد ابدی کو توڑا” یسعیاہ -5-4:24 AK 567.2

    پھر مہا دھوکے باز لوگوں کو ترغیب دے گا کہ وہ لوگ جو خداوند کی خدمت کرتے ہیں وہی انکے لئے بدی اور مصائب کا باعث ہیں- وہ ان تمام مصائب کا الزام ان پر لگائیں گے جو خداوند کی شریعت کو مسلسل مانتے ہیں- ہر جگہ یہ منادی کی جائے گی کہ خدا کو ناراض کرنے کا سبب سنڈے (سبت) کی بیحرمتی ہے اور اسی گناہ کے سبب یہ مصائب آئے ہیں اور یہ اس وقت تک تمام نہیں ہوں گے جب تک سنڈے ماننے کے قانون کو سختی سے نافذ نہ کیا جائے گا- یہ الزام لگایا جائے گا کہ وہ جو چوتھے حکم کو مانتے ہے وہ سنڈے کے تقدس کو پامال کرتے ہیں- وہی لوگوں کو ستانے والے ہیں وہی ہماری بحالی اور برومندی کی راہ میں الہی حمایت کو روکے ہوۓ ہیں- یوں خدا کے خادموں کے خلاف یہ پرانا الزام پھر دہرایا جائے گا “اور جب اخی اب نے ایلیاہ کو ڈھا تو اس نے اس سے کہا اے اسرائیل کے ستانے والے کیا تو ہی ہے؟ اس نے جواب دیا میں نے اسرائیل کو نہیں ستایا بلکہ تو اور تیرے باپ کے گھرانے نے کیونکہ تم نے خداوند کے حکموں کو ترک کیا اور تو بعلیمکا پیرو ہو گیا” 1 سلاطین -18-17:18AK 567.3

    اور جب جھوٹے الزامات لگا کر لوگوں کے غضب کو بڑھایا جائے گا تو وہ خدا کے ایلچیوں کے خلاف وہی راہ اختیار کریں گے جو برگشتہ اسرائیل نے ایلیاہ کے خلاف اختیار کی تھی-AK 568.1

    سپرچولزم کے ذریعہ معجزات دکھانے والی قوت اپنے اثرورسوخ کو انکے خلاف استعمال کرے گی جو انسانوں کے حکم کو ماننے کی نسبت خدا کے حکم کو مانیں گے- بدروحوں کے ساتھ رابطہ کر کے اعلان کیا جائے گا کہ خدا نے انہیں بھیجا ہے کہ وہ سنڈے کو رد کرنے والوں کو قائل کریں اور ملکی قانون کو ہی خدا کے قانون کی جگہ مانیں- دنیا میں پائی جانے والی بڑی بدکاری پر وہ آہ وفضاں کریںگے، دوسرے مذہبی ٹیچرز انکی گواہی کی تائید کریں گے کہ جتنا اخلاقی انحطاط دیکھنے کو مل رہا ہے اسکی وجہ سنڈے کی پائمالی ہے- اور جو کوئی بھی انکی گواہی کو ماننے سے انکار کرے گا انکے خلاف نفرت انگیز غصہ بھڑکایا جائے گا-AK 568.2

    خدا کے لوگوں کے ساتھ فیصلہ کن کشمکش میں شیطان کی وہی پالیسی ہو گی جو آسمان میں عظیم کشمکش کی ابتدا میں تھی- کہتا تو وہ یہ ہے کہ وہ الہی حکومت کی پائیداری کے لئے کام کر رہا ہے، جبکہ وہ الہی حکومت کو گرانے کے لئے کوئی دقیقه فروگزاشت نہی کر رہا- اور وہ کام جسے وہ خود انجام دینا چاہتا ہے اسکا الزام وہ وفادار فرشتوں پر لگاتا ہے- دھوکے فریب کی یہ پالیسی رومن کلیسیا کی تاریخ میں پائی گئی ہے- اسکا اقرار تو یہ ہے کہ وہ خدا کے نائب کے طور پر کام کرتا ہے جبکہ وہ خدا کی شریعت کو پامال اور خود خدا سے بھی بلند ہونے متمنی ہے- رومی مذہبی حکومت کے تحت جنہیں اس لئے موت کی سزا دی گئی کیونکہ وہ انجیل سے انکاری اور بدترین بدکار تھے جبکہ انپر الزامات لگانے والوں کا گٹھ جوڑا ابلیس کے ساتھ تھا- اور انہوں نے بیگناہ لوگوں پر ایسے بدترین الزامات استوار کئے جو عوام کی اور خود رومی حکومت کی نظروں میں نفرت انگیز تھے- ایسا ہی اب بھی ہو گا جب ابلیس انکو برباد کرنا چاہتا ہے جو خدا کی شریعت کی تعظیم کرتے ہیں، وہ انہیں قانون شکن کے طور پر پیش کرے گا- ایسا جیسے کہ وہ خداوند کی بیحرمتیکرنے والے اور دنیا پر مصیبت لانے والے ہیں- خداوند کبھی بھی کسی کی مرضی یا ضمیر کو مجبور نہیں کرتا- مگر ابلیس جن کو ورغلا نہیں سکتا انہیں مسلسل جبروتشدد کے ذریعہ مجبور کرتا رہتا ہے- خوف یا جبر کے ذریعہ وہ ان کے ضمیر پر حکمرانی کرتا اور انکی عقیدت حاصل کرتا ہے- یہ کار بد انجام دینے کے لئے وہ مذہبی اور سیکولر ارباب اختیار کو استعمال کرتا ہے اور انہیں خدا کے قوانین کی نسبت انسانی قوانین نافذ کرنے لے لئے متحرک کرتا ہے-AK 568.3

    جو بائبل کے سبت کی تعظیم کریں گے ان پر کی بےجا الزامات لگائے جائیں گے جیسے کے امن وامان کے دشمن، سوسائٹی کے اخلاقی بگاڑ کا باعث، ملک میں انتشار پھیلانے والے اور کرپشن وغیرہ وغیرہ اور کرپشن کے الزامات لگائے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ انکی وجہ سے زمین پر خداوند کا غضب نازل ہو رہا ہے- انکی دیانتداری اور صداقت پسندی کو خودداری، ضدی اور حکومت کی توہین کرنے اور اس سے انحراف کرنے والے کو کہا جائے گا- وہ منسٹرز جو الہی شریعت کی ذمہ داریوں سے انحراف کرتے ہیں وہ پلپٹ سے سول حکومت کی فرمانبرداری کرنے کی تلقین کریں گے اور کہیں گے کہ یہ خدا کی طرف سے مقرر ہوئی ہیں- قانون ساز اسمبلیوں اور کورٹ آف جسٹس میں شریعت کو ماننے والوں کی غلط نمائندگی کی جائے گی اور ان پر فرد جرم عائد کی جائے گی- انکے بیان کو توڑ موڑ کر پیش کیا جائے گا اور انکے ارادوں کی غلط تعبیر کی جائے گی-AK 569.1

    جیسے کہ پروٹسٹنٹس کلیسیائیں خدا کی شریعت کے حق میں جو پاک نوشتوں میں واضح دلائل دیئے گئے ہیں انکو رد کرتے ہیں، تو وہ انکی زبان بند کرنا چاہیں گے جن کے ایمان اور دلائل کو وہ بائبل کی رو سے رد نہیں کر سکتے- انہوں نے حقائق کی طرف سے آنکھیں بند کر لی ہیں، اب وہ ایسی راہ اختیار کر رہے ہیں جو انکی ایذا رسانی کا سبب بنے جو بڑی ایمانداری سے وہ کچھ نہیں کرنا چاہتے جو دوسری دنیا کر رہی ہے اور پوپ کا دیا ہوا سبت تسلیم کر رہی ہے-AK 569.2

    کلیسیا کے معززین اور سٹیٹ کے ارباب اختیار سنڈے کی تعظیم کروانے کے لئے تمام طبقہ کے لوگوں کو رشوت دینے کے لیے یا مجبور کرنے کے لئے متحد ہو جائیں گے- الہی اختیار کی کمی کو جابرانہ قانون کا نفاذ کر کے پورا کیا جائے گا- پولیٹیکل کرپشن انصاف اور صداقت کا گلہ گھونٹ رہی ہے- حتی کہ آزاد امریکہ میں بھی، حاکم اور قانون بنانے والے، پبلک کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ہردلعزیز سنڈے منانے کے مطالبے کا قانون نافذ کر دیں گے-AK 569.3

    ضمیر کی آزادی جس کے لئے بہت سی قربانیاں دینی پڑیں اسکی کوئی پرواہ نہ کی جائے گی- جلد وقوع پذیر ہونے والی کشمکش میں ہم اسکی جونبی نے نظیر دی ہے اسے دیکھیں گے “اور اژدہا کو عورت پر غصہ آیا اور اسکی باقی اولاد سے جو حکموں پر عمل کرتی ہے اور یسوع کی گواہی دینے پر قائم ہے لڑنے کو گیا” مکاشفہ -17:12AK 569.4

    *****

    Larger font
    Smaller font
    Copy
    Print
    Contents